MOJ E SUKHAN

چرچا اس عالمین میں جس کی ادا کا تھا

غزل

چرچا اس عالمین میں جس کی ادا کا تھا
آئینہ میرے پاس اسی مہ لقا کا تھا

جس کے ہزار جان فدائی ہیں دہر میں
چہرہ نگاہ میں اسی گلگوں قبا کا تھا

جھکتا نہ کیسے سامنےاس کا سرِ غرور
جب مسلۂ نگاہ میں میری انا کا تھا

آتا نہ کیسے لوٹ کے پھر میرے پاس وہ
ہر حرفِ معتبر بھی تو میری دعا کا تھا

مجھ کو بچایا رحمتِ پروردگار نے
پہرہ جہاں میں لاکھ وبا و بلا کا تھا

بازو کٹا کے جامِ اجل نوش یوں کیا
فرش و فلک پہ چرچا اسی کی وفا کا تھا

مجھ سے بھی آشنا تھی جو یہ ساری کائینات
ساراکرم کیا ہوامیرے خدا کا تھا

مجھ سے منوّر اس لیۓ نادم ہوا تھا وہ
ان کی نظر میں چہرہ بھی روزِ جزا کا تھا

منور جہاں زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم