MOJ E SUKHAN

ایسا نہیں کہ ایک مرا گھر اداس ہے

غزل

ایسا نہیں کہ ایک مرا گھر اداس ہے
تیرے بغیر جو بھی ہے منظر اداس ہے

کوئی اثر دکھا نہ سکا فن کا معجزہ
اپنے بتوں کو دیکھ کے آزر اداس ہے

پہلوئے سنگ میں بھی ہے اک درد مند دل
وحشی کے سر کو پھوڑ کے پتھر اداس ہے

جس نے کیا تھا قتل کسی بے گناہ کا
اپنے کئے پہ اب وہی خنجر اداس ہے

خاموش سطح آب ہے مغموم ہے فضا
کشتی کو غرق کر کے سمندر اداس ہے

جس دل کے آئنے میں نہیں عکس روئے دوست
اس دل کے آئنے کا مقدر اداس ہے

ساقی کی بے نیازئ پیہم کو دیکھ کر
جوہرؔ حیات عشق کا ساغر اداس ہے

چندر پرکاش جوہر بجنوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم