غزل
ایسا نہیں کہ ایک مرا گھر اداس ہے
تیرے بغیر جو بھی ہے منظر اداس ہے
کوئی اثر دکھا نہ سکا فن کا معجزہ
اپنے بتوں کو دیکھ کے آزر اداس ہے
پہلوئے سنگ میں بھی ہے اک درد مند دل
وحشی کے سر کو پھوڑ کے پتھر اداس ہے
جس نے کیا تھا قتل کسی بے گناہ کا
اپنے کئے پہ اب وہی خنجر اداس ہے
خاموش سطح آب ہے مغموم ہے فضا
کشتی کو غرق کر کے سمندر اداس ہے
جس دل کے آئنے میں نہیں عکس روئے دوست
اس دل کے آئنے کا مقدر اداس ہے
ساقی کی بے نیازئ پیہم کو دیکھ کر
جوہرؔ حیات عشق کا ساغر اداس ہے
چندر پرکاش جوہر بجنوری