MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے

غزل

کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے
جنوں کمال نہیں ہے کمال وحشت ہے

میں زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں
تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے

گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہے
وہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے

زمانے والے تو شاید نہیں کسی قابل
جو ملتا رہتا ہوں ان سے مری مروت ہے

ہوا بہار کی آئے گی اور میں چوموں گا
وہ سارے پھول کہ جن میں تری شباہت ہے

خدا رکھے تری آنکھوں کی دل نوازی کو
تری نگاہ مری عمر بھر کی دولت ہے

ترے بغیر بجھا جا رہا ہوں اندر سے
جو ٹھیک ٹھاک ہوں باہر سے تو یہ عادت ہے

جو ہو سکے تو مجھے اپنے پاس رکھ لینا
ترا وصال تو اک ثانوی سعادت ہے

ترے بغیر کوئی کیسے زندہ رہتا ہے
مگر میں ہوں کہ یہی عشق کی روایت ہے

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم