MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خاک ہوتی ہوئی ہستی سے اٹھا

غزل

خاک ہوتی ہوئی ہستی سے اٹھا
عشق کا بوجھ بھی مٹی سے اٹھا

ہجر تھا بار امانت کی طرح
سو یہ غم آخری ہچکی سے اٹھا

لو ترے بعد بڑھی اشکوں کی
شعلۂ عشق بھی پانی سے اٹھا

دل نے آباد کیا عشق آباد
خاک ہو کر اسی بستی سے اٹھا

دل اسی درد کی زلفوں کا اسیر
ہائے وہ درد جو پسلی سے اٹھا

یا مجھے قید عناصر سے نکال
یا مری خاک کو پستی سے اٹھا

آخری وقت میں ہر رنج کا بوجھ
خم شدہ ریڑھ کی ہڈی سے اٹھا

اس سے پہلے کہ مرا نام آ جائے
مجھے اس ڈولتی کشتی سے اٹھا

توقیر تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم