MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہاں عمر بھر کا ساتھ نبھانا اُسے بھی ہے

ہاں عمر بھر کا ساتھ نبھانا اُسے بھی ہے
یہ معجزہ تو کر کے دکھانا اُسے بھی ہے

میں ہی نہیں جو کارِ جنوں میں پڑا رہوں
سن سن شبِ فراق رلانا اُسے بھی ہے

ہر بار التجا پہ مری کان کیوں دھرے
آخر نظامِ دہر چلانا اُسے بھی ہے

دل سے اتر گیا تو کہانی تمام شد
دو ٹوک فیصلہ یہ سنانا اُسے بھی ہے

ماجد خسارہ میرے ہی حصے نہ آئے گا
تنہائیوں کا بوجھ اٹھانا اُسے بھی ہے

ماجد جہانگیر مرزا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم