غزل
بلبل کہیں ہے پھول کہیں باغباں کہیں
اللہ پھر دکھائے نہ ایسا سماں کہیں
گم گشتگان شوق کا عالم نہ پوچھئے
رہبر کہیں ہے راہ کہیں کارواں کہیں
کر تو رہے ہیں وہ مری بربادیوں کی فکر
خود ان کی گھات میں نہ ہوں بربادیاں کہیں
ہنستے ہو میرے دامن صد چاک پر ہنسو
پرچم بنیں نہ فتح کا یہ دھجیاں کہیں
انجام ضبط درد ہے دنیا کے سامنے
بجلی کہیں گری تو چلیں آندھیاں کہیں
یہ بھی خبر نہیں کہ گیا قافلہ کدھر
ہم تو وہیں کے ہو رہے ٹھہرے جہاں کہیں
چھٹ جائے اے نظیرؔ نہ دامن یقین کا
گمراہ کر نہ دیں تجھے وہم و گماں کہیں
سعادت نظیر