MOJ E SUKHAN

بلبل کہیں ہے پھول کہیں باغباں کہیں

غزل

بلبل کہیں ہے پھول کہیں باغباں کہیں
اللہ پھر دکھائے نہ ایسا سماں کہیں

گم گشتگان شوق کا عالم نہ پوچھئے
رہبر کہیں ہے راہ کہیں کارواں کہیں

کر تو رہے ہیں وہ مری بربادیوں کی فکر
خود ان کی گھات میں نہ ہوں بربادیاں کہیں

ہنستے ہو میرے دامن صد چاک پر ہنسو
پرچم بنیں نہ فتح کا یہ دھجیاں کہیں

انجام ضبط درد ہے دنیا کے سامنے
بجلی کہیں گری تو چلیں آندھیاں کہیں

یہ بھی خبر نہیں کہ گیا قافلہ کدھر
ہم تو وہیں کے ہو رہے ٹھہرے جہاں کہیں

چھٹ جائے اے نظیرؔ نہ دامن یقین کا
گمراہ کر نہ دیں تجھے وہم و گماں کہیں

سعادت نظیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم