Jan kar pehchan kar apna mujhy to maan kar
غزل
جان کر پہچان کر اپنا مجھے تو مان کر
زندگی کا راستہ تقدیر کچھ آسان کر
ساکنانِ دشت سے سینہ سپر ہے تشنگی
آبلوں کے سر کچل کچھ دشت پر احسان کر
روزنِ تقدیر سے آئے گی من چاہی صدا
دیکھ کر جس کو سنورتا ہے اسے حیران کر
راستے بچھ جائیں گے پیروں تلے منزل کے سب
دامنِ امید پر حیرت کو مت قربان کر
ہو رہا ہے دھیرے دھیرے آفتابِ غم غروب
آہ کو دے لفظ ان اشکوں کا مت نقصان کر
خواب کچھ پلکوں پہ جھولا جھولتے ہیں آج بھی
اور میں خاموش ہوں شورِ سگاں پہچان کر
لے رہی ہیں جسم کی جو خواہشیں انگڑائیاں
دل بضد ہے ان کو بھی تو شاملِ دیوان کر
زندہ رہنے کے لیے قرطاس کی گلیوں میں دل
مخلصی کو زندگی کا دائمی جزدان کر
میرے حق میں کر رہی ہے دل کی ویرانی دعا
اس کے محرم غم کدے کو اے خدا ویران کر
ہو گئی موجِ نسیمی اس لیے میری اسیر
تارِ دل چھیڑے تھے اس نے مجھ کو اپنا جان کر
نسیم شیخ
Naseem Shaikh