MOJ E SUKHAN

گزشتہ وقت کی ہر بات آنی جانی ہوئی

غزل

گزشتہ وقت کی ہر بات آنی جانی ہوئی
یہ بات اگلے سفر کی نئی نشانی ہوئی

لگا کے بیٹھ گئے شرط دست و بازو کی
اگرچہ دل میں ہے پہلے سے ہار مانی ہوئی

جدا کیا ہے اسے آپ ہی تو چپ کیوں ہو
بھلا یہ کون سے جذبے کی ترجمانی ہوئی

اسے پھر اور کسی شعر میں کہا نہ گیا
جو بات آپ سے پچھلے دنوں زبانی ہوئی

سنائے جائیں اگر کوئی سننے والا ہو
کسی کی یاد ہمارے لیے کہانی ہوئی

بدل گیا ہے چلن شہر آرزو کا نسیمؔ
اس عہد نو میں تمہاری وفا پرانی ہوئی

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم