MOJ E SUKHAN

بہا کے بستی کو مطلع جو کھل گیا سائیں

غزل

بہا کے بستی کو مطلع جو کھل گیا سائیں
قبول ہو گئی کہتے ہو وہ دعا سائیں

سو اتنا حبس بڑھایا گیا کہ پھر آخر
چراغ دے کے خریدی گئی ہوا سائیں

یہ کن خطوط پہ دیوار ہم نے کھینچی ہے
کوئی برا نہیں ہم میں نہیں بھلا سائیں

قطع ہوئی ہیں زبانیں کہ بک گئے ہیں سخن
زبان رکھتے ہوئے کوئی چپ رہا سائیں

کریں نہ کس لیے آباد قتل گاہیں ہم
قتیل ہونا ہی ٹھہری اگر جزا سائیں

کہاں سے قند کو لا کر زبان پر رکھتے
ہوئی ہے زہر سے جو آلودہ ہر فضا سائیں

دعائیں کس لیے مانگی تھیں حبس چھٹنے کی
اڑا کے لے گئی آندھی مری ردا سائیں

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم