MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے
تمام دریا کسی روز ڈوب جائیں گے

سفر تو پہلے بھی کتنے کیے مگر اس بار
یہ لگ رہا ہے کہ تجھ کو بھی بھول جائیں گے

الاؤ ٹھنڈے ہیں لوگوں نے جاگنا چھوڑا
کہانی ساتھ ہے لیکن کسے سنائیں گے

سنا ہے آگے کہیں سمتیں بانٹی جاتی ہیں
تم اپنی راہ چنو ساتھ چل نہ پائیں گے

دعائیں لوریاں ماؤں کے پاس چھوڑ آئے
بس ایک نیند بچی ہے خرید لائیں گے

ضرور تجھ سا بھی ہوگا کوئی زمانے میں
کہاں تلک تری یادوں سے جی لگائیں گے

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم