MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سر خوشی اپنی جگہ دل یہ پریشان بھی تھا

سر خوشی اپنی جگہ دل یہ پریشان بھی تھا
وصل لمحے تھے مگر ہجر کا امکان بھی تھا

عشق کہتے ہیں جسے ہے تو تمنائے سراب
پر یہ شوریدہ سروں کے لیے آسان بھی تھا

ہائے وحشت! کہ ُاسی در پہ پھر اک بار ہوں میں
ؔہائے وہ در جو مرے درد کا عنوان بھی تھا

دل میں دھڑکن نے بہت شور مچایا ہوا تھا
اور یہ دل کہ خود اِس شور پہ حیران بھی تھا

اس نے دیکھا ہی نہیں ، بھیڑ میں تو کب سے کھڑا
دامنِ تار لیے چاک گریبان بھی تھا

بس کہ اک جنبشِ ابرو پہ ہوئی بات تمام
جب کہ وہ شخص تو سنتے ہیں سخن دان بھی تھا

رک گیا کیوں نہ ، اگر پیار کا دعویٰ تھا اسے
کیوں اسے بھول گیا ہم میں جو پیمان بھی تھا

کیوں چلا جاتا کراچی سے مری جان کے جب
تجھ سے ملنے کا اِسی شہر میں امکان بھی تھا

جس نے برباد کیا تھا، یہ وہی تھا کاشفؔ
جو مجھے دیکھ کے اس حال میں، حیران بھی تھا

کاشف علی ہاشمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم