MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہوتے ہیں

جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہوتے ہیں
زندگی کرنے کے اسباب نہیں ہوتے ہیں

واسطہ رہتا ہے دشمن سے ہمیشہ اپنا
اپنے اطراف میں احباب نہیں ہوتے ہیں

اب تکلف کی حدوں سے ذرا باہر نکلو
دوستوں میں کوئی آداب نہیں ہوتے ہیں

ہم سے پوچھو کہ سمندر کی روانی کیا ہے
ہم جہاں ہیں وہاں تالاب نہیں ہوتے ہیں

تم تو بیکار الجھنے لگے ثاقب ہم سے
سنگ ریزے کبھی مہتاب نہیں ہوتے ہیں

سہیل ثاقب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم