جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہوتے ہیں
زندگی کرنے کے اسباب نہیں ہوتے ہیں
واسطہ رہتا ہے دشمن سے ہمیشہ اپنا
اپنے اطراف میں احباب نہیں ہوتے ہیں
اب تکلف کی حدوں سے ذرا باہر نکلو
دوستوں میں کوئی آداب نہیں ہوتے ہیں
ہم سے پوچھو کہ سمندر کی روانی کیا ہے
ہم جہاں ہیں وہاں تالاب نہیں ہوتے ہیں
تم تو بیکار الجھنے لگے ثاقب ہم سے
سنگ ریزے کبھی مہتاب نہیں ہوتے ہیں
سہیل ثاقب