MOJ E SUKHAN

تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہوا

غزل

تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہوا
ہم پر تو جو ستم بھی ہوا بے سبب ہوا

اس ساعت سعید کو کیا نام دیجئے
انساں اسیر وقت کے زنداں میں جب ہوا

شعلہ صفت ہیں رقص میں اپنے چمن کے پھول
اس عالم‌ بہار میں یہ کیا غضب ہوا

شاید یہی مذاق طلب کی ہے انتہا
دنیائے رنگ و بو میں بھی دل بے طلب ہوا

منصف کو مصلحت کی زباں راس آ گئی
گو فیصلہ ہوا مگر انصاف کب ہوا

اس کو نصیب ہو نہ سکا رشتۂ خلوص
جو قائل قضیۂ حسب و نسب ہوا

جاری ہے ایک تیرگی و روشنی کی جنگ
جب سے شعور سلسلۂ روز و شب ہوا

حد نگاہ تک کہیں شعلے کہیں دھواں
یہ خاک و خوں کا کھیل گلستاں میں کب ہوا

اس حادثے پہ آپ کا جو تبصرہ بھی ہو
میں آشنائے محفل عیش و طرب ہوا

کیسے ہو تم کو لذت آزاد جاں نصیب
دشوار مرحلوں سے گزرنا ہی کب ہوا

کتنے عظیم لوگ تہ خاک ہو گئے
تو بھی ہوا جو لیثؔ تو پھر کیا عجب ہوا

لیث قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم