MOJ E SUKHAN

یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا

غزل

یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا
میرا سوال خلق خدا تک نہیں گیا

پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر پڑا
خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا

مصلوب ہو رہا تھا مگر ہنس رہا تھا میں
آنکھوں میں اشک لے کے خدا تک نہیں گیا

جو برف گر رہی تھی مرے سر کے آس پاس
کیا لکھ رہی تھی مجھ سے پڑھا تک نہیں گیا

فیصلؔ مکالمہ تھا ہواؤں کا پھول سے
وہ شور تھا کہ مجھ سے سنا تک نہیں گیا

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم