MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جنوں کی دل لگی کو اپنی صورت چھوڑ آیا ہوں

جنوں کی دل لگی کو اپنی صورت چھوڑ آیا ہوں
میں دل کے آئنہ خانے میں وحشت چھوڑ آیا ہوں

گرا ہوں عرش سے میں فرش کی گہرائیاں لے کر
حقیقت جان لی ہے دستِ قدرت چھوڑ آیا ہوں

چراغِ منبر و محراب کو جلتا ہی رکھا ہے
میں نسلِ نو کی آئیندہ ضرورت چھوڑ آیا ہوں

محبت کے تقاضوں نے مجھے کھلنے سے روکا تھا
الم کی وادیوں میں ان کی طاقت چھوڑ آیا ہوں

اسے آزاد کرکے رکھ دیا سانسوں کے جھولے پر
خمارِ زندگانی با حفاظت چھوڑ آیا ہوں

بہت گستاخ نظروں کی نہیں تھی تاب ہستی میں
میں ٹوٹا جسم لے کر اس کی سنگت چھوڑ آیا ہوں

گستاخ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم