MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اگرچہ دل تھا غموں سے فگار اور رہا

غزل

اگرچہ دل تھا غموں سے فگار اور رہا
مگر گلہ تھا زبس ناگوار اور رہا

کسی کو راہ مرے گھر کی یاد ہی نہ رہی
میں انتظار میں تھا بے قرار اور رہا

زمانہ کھائے گا قسمیں ہماری عظمت کی
یہ دور غم جو ذرا سازگار اور رہا

ہوا ہے کب سفر زندگی تمام کہ جب
نہ راستے میں کوئی خار زار اور رہا

سحاب لطف نہ کشت امید پر برسا
چمن کرم کا تھا امیدوار اور رہا

یہ لیجئے دل صد پارہ اور حاضر ہے
یہ ایک کشتۂ لیل و نہار اور رہا

یہی ازل سے ہے دستور دوستی فطرتؔ
وفا کا تشنہ تھا ہر دوست دار اور رہا

عبدالعزیز فطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم