عمر بھر ہم نے نبھائی دوستوں سے دوستی
اب یہ جانا کہ عبث ہی زندگی بیکار کی
کیا گلہ غیروں سے جب اس نے پرایا کردیا
اب ضرورت ہی نہیں باقی کسی تکرار کی
زندگی بھر اس نے رکھا میری چاہت کا بھرم
آ ج پر نیلام لوگوں میں سر۔ بازار کی
خود لگاتا ہے وو نشتر اور خود ہی ہے طبیب
پوچھتے ہو بات کیا میرے مزاج ۔ یار کی
دھن دھرم کی بات کیا سب اس کے آ گے ہیچ ہیں
بات ہوتی ہے فقط اک خوبیء کردار کی
الفت۔ دنیا نے روبی کردیا مغلوب یوں
اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی راہ ہے دشوار کی
روبینہ ممتاز روبی