MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی
میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی

دل کی حسرت دل ناکام سے آگے نہ بڑھی
زندگی موت کے پیغام سے آگے نہ بڑھی

وہ گئے گھر کے چراغوں کو بجھا کر میرے
پھر ملاقات مری شام سے آگے نہ بڑھی

رہ گئی گھٹ کے تمنا یوں ہی دل میں اے دوست
گفتگو اپنی ترے نام سے آگے نہ بڑھی

وہ مجھے چھوڑ کے اک شام گئے تھے ناصرؔ
زندگی اپنی اسی شام سے آگے نہ بڑھی

حکیم ناصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم