MOJ E SUKHAN

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں
کچھ لوگ انہیں صاحب توقیر بنائیں

اک خواب میں رکھیں کوئی گزرا ہوا لمحہ
اک خواب سے آئندہ کی تعبیر بنائیں

پتھر پہ کریں نقش ترے ہجر کا قصہ
پانی پہ ترے وصل کی تصویر بنائیں

شاید کسی زندان سے نکلے نہیں اب تک
یہ لوگ جو کاغذ پہ بھی زنجیر بنائیں

اک بار اگر باب سخن ہم پہ بھی کھل جائے
اس شخص کو بھی معتقد میرؔ بنائیں

قمر رضا شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم