بے قرار لوگوں کو سوگوار لوگوں کو
بارہا یہ سمجھایا دل کا درد کہنے سے
بے قرار رہنے سے اور تھوڑا بڑھتا ہے
درد کم نہیں ہوتا زخم کو کھرچنے سے
اور گہرا ہوتا ہے مندمل نہیں ہوتا
ذہن کے دریچوں میں نام کھود لینے سے
اپنا کون ہوتا ہے کرب اوڑھ لینے سے
کوئی آ نہیں ملتا شب کے گھور رستے کو
دیر تک ہی تکنے سے راستہ نہیں بنتا
اور یہ ہی اک سچ ہے بے قرار لوگوں کو
یوں تڑپتے رہنے سے کون روک پایا ہے؟؟؟
ارم ایوب