MOJ E SUKHAN

بے قرار لوگوں کو سوگوار لوگوں کو

بے قرار لوگوں کو سوگوار لوگوں کو
بارہا یہ سمجھایا دل کا درد کہنے سے
بے قرار رہنے سے اور تھوڑا بڑھتا ہے
درد کم نہیں ہوتا زخم کو کھرچنے سے
اور گہرا ہوتا ہے مندمل نہیں ہوتا
ذہن کے دریچوں میں نام کھود لینے سے
اپنا کون ہوتا ہے کرب اوڑھ لینے سے
کوئی آ نہیں ملتا شب کے گھور رستے کو
دیر تک ہی تکنے سے راستہ نہیں بنتا
اور یہ ہی اک سچ ہے بے قرار لوگوں کو
یوں تڑپتے رہنے سے کون روک پایا ہے؟؟؟

ارم ایوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم