MOJ E SUKHAN

خشک دریا پڑا ہے خواہش کا

خشک دریا پڑا ہے خواہش کا
خواب دیکھا تھا ہم نے بارش کا

مستقل دل جلائے رکھتا ہے
ہے یہ موسم ہوا کی سازش کا

اس سے کہنے کو تو بہت کچھ ہے
وقت ملتا نہیں گزارش کا

کوئی اس سے تو کچھ نہیں کہتا
بو رہا ہے جو بیچ رنجش کا

پا بہ زنجیر چل رہے ہیں جو ہم
یہ بھی پہلو ہے اک نمائش کا

پھول کل تھے تو آج پتھر ہیں
یہ بھی انداز ہے ستائش کا

میں نے آنکھوں سے گفتگو کر لی
یہ ہنر ہے زباں کی بندش کا

کھل رہے ہیں گلاب زخموں کے
شکریہ آپ کی نوازش کا

جاری مشق سخن رہے اعجازؔ
کچھ صلہ تو ملے گا کاوش کا

اعجاز رحمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم