MOJ E SUKHAN

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجے

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجے
یہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجے

رکا جو کام تو دیوانگی ہی کام آئی
نہ کام آئے تو فرزانگی کو کیا کیجے

یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا
مگر سرشت کی آوارگی کو کیا کیجے

کسی کو دیکھ کے اک موج لب پہ آ تو گئی
اٹھے نہ دل سے تو ایسی ہنسی کو کیا کیجے

ہمیں تو آپ نے سوز الم ہی بخشا تھا
جو نور بن گئی اس تیرگی کو کیا کیجے

ہمارے حصے کا اک جرعہ بھی نہیں باقی
نگاہ دوست کی مے خانگی کو کیا کیجے

جہاں غریب کو نان جویں نہیں ملتی
وہاں حکیم کے درس خودی کو کیا کیجے

وصال دوست سے بھی کم نہ ہو سکی راشدؔ
ازل سے پائی ہوئی تشنگی کو کیا کیجے

ن م راشد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم