MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کب سے ہیں اس مکان پہ تالے لگے ہوئے

کب سے ہیں اس مکان پہ تالے لگے ہوئے
آنگن میں بھی ہیں پیڑ سنہرے لگے ہوئے

بے فکر سو رہے ہیں سبھی خواب گاہ میں
ہر موڑ پر ہیں امن کے دستے لگے ہوئے

دل چاہتا ہے چوم لیں ہم ان کو پیار سے
پھولوں کے خوشنما ہیں جو گملے لگے ہوئے

سب کچھ سمیٹ کر چلو اب گاؤں کو چلیں
ہیں کلفتوں کے شہر میں میلے لگے ہوئے

داخل کہاں سے ہوں گے بھلا آپ سوچ لیں
ہر سمت مکڑیوں کے ہیں جالے لگے ہوئے

موسم یہاں کا دیکھ ہے کس قدر خوف ناک
راہوں میں پر خطر بھی ہیں کہرے لگے ہوئے

اس دور میں بھی ذہن پہ وحشت سوار ہے
گھوڑے کے نال اب بھی ہیں درپے لگے ہوئے

تابش ذرا بھی فکر نہ کر انتظام کی
ہر گام پہ ہیں چاہنے والے لگے ہو ئے

تابش رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم