MOJ E SUKHAN

جی چاہتا ہے راہِ وفا میں گزر بھی ہو.

جی چاہتا ہے راہِ وفا میں گزر بھی ہو.
لیکن تمھارا عشق ذرا معتبر بھی ہو

بادل بھی آسماں سے زمیں پر برس پڑے
لیکن زمیں کی آہ میں اتنا اثر بھی ہو

اس سنگدل کا دل بھی پگھلتا ہی جائے گا
لیکن ہماری آہ و فغاں میں شرر بھی ہو

مجذوب میں نہیں ہوں کہ تنہا گزار دوں
دنیا کے اس سفر میں کوئی ہمسفر بھی ہو

میں جان و دل سے جشنِ محبت مناؤں گی
ظاہر میں کچھ تو رونقِ دیوار و در بھی ہو

اغیار کے ہجوم میں کب تک رہوگے تم
میں تو ادھر کھڑی ہوں توجہ ادھر بھی ہو

مر جائیں گے تو رحمتِ خالق ہی پائیں گے
زریاب اپنی دنیا میں اچھی بسر بھی ہو

ہاجرہ نور زریاب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم