MOJ E SUKHAN

خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا

خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا
مختصر یہ ہے وہ میری زندگانی لے گیا

پھول سے موسم کی برساتیں ہواؤں کی مہک
اب کے موسم کی وہ سب شامیں سہانی لے گیا

دے گیا مجھ کو سرابوں کا سکوت مستقل
میرے اشکوں سے وہ دریا کی روانی لے گیا

خاک اب اڑنے لگی میدان صحرا ہو گئے
ریت کا طوفان دریاؤں سے پانی لے گیا

کون پہچانے گا زریںؔ مجھ کو اتنی بھیڑ میں
میرے چہرے سے وہ اپنی ہر نشانی لے گیا

عفت زرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم