MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی کسک جدائی کی کبھی مہک وصال کی

غزل

کبھی کسک جدائی کی کبھی مہک وصال کی
قدم نہ تھے زمیں پہ جب وہ عمر تھی کمال کی

کئی دنوں سے فکر کا افق اداس اداس ہے
نہ جانے کھو گئی کہاں دھنک ترے خیال کی

رفاقتوں کے وہ نشاں نہ جانے کھو گئے کہاں
وہ خوشبوؤں کی رہ گزر وہ رتجگوں کی پالکی

کسی کو کھو کے پا لیا کسی کو پا کے کھو دیا
نہ انتہا خوشی کی ہے نہ انتہا ملال کی

وہ روشنی کا خواب تھا مگر وہی سراب تھا
عروج میں چھپی ہوئی تھی ابتدا زوال کی

اقبال اشہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم