MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے اندر کی ویرانی نے مجھ کو مار ڈالا

مرے اندر کی ویرانی نے مجھ کو مار ڈالا
خموشی کی فراوانی نے مجھ کو مار ڈالا

پلائیں گے مجھے کیا زہر پیالہ دوست میرے
مرے طرزِ سخن دانی نے مجھ کو مار ڈالا

کہاں ھے نقطہ ء ختم ِمسافت کون جانے
سفر رستوں کی طولانی نے مجھ کو مار ڈالا

نہاں ہیں عکس اندر عکس سارے آئینوں میں
ان آئینوں کی حیرانی نے مجھ کو مار ڈالا

نہ راس آیا مجھے صحرائے ہستی میں پڑاؤ
سرابوں کی فراوانی نے مجھ کو مار ڈالا

جمی ھے تشنگی ہونٹوں پہ صدیوں کی ابھی تک
فراتِ جبر کے پانی نے مجھ کو مار ڈالا

کہاں تک آنکھ دیکھے ایک جیسے بانجھ منظر
مرے خوابوں کی ویرانی نے مجھ کو مار ڈالا

مذاقِ کرب کی معراج پا کر لمحہ لمحہ
جنوں کی حشر سامانی نے مجھ کو مار ڈالا

میسر ہی نہیں مہلت رفو کی اس سفر میں
سو ان زخموں کی عریانی نے مجھ کو مار ڈالا

بیاباں کا سفر اور دھوپ ہی زاد ۔ سفر تھی
تمازت کی اس ارزانی نے مجھ کو مار ڈالا

پروین حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم