MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چاہا تھا میں نے جیسا یہ ویسا نہیں لگا

غزل

چاہا تھا میں نے جیسا یہ ویسا نہیں لگا
یہ عشق سچ کہوں مجھے اچھا نہیں لگا

شاید کہ تھک چکے ہیں مرے رشتے دار سب
دو چار دن سے زخم جو تازہ نہیں لگا

بہتا رہا لہو مرا سینے پہ دشت کے
کل رات مجھ کو دشت پیاسا نہیں لگا

پھونکی سروشِ عشق نے بس آیتِ وفا
پھر اس کے بعد کوئی عدو سا نہیں لگا

جدت نے ایسی پھیری ہے جھاڑو کہ اب مجھے
اپنا ہی سایا ہائے شناسا نہیں لگا

تنہائی مجھ سے ہونے ہی والی تھی ہم کلام
اچھا ترا یوں لوٹ کے آنا نہیں لگا

میں نے بساطِ عشق پہ رکھے تھے دو قدم
کوئی بھی راہ رو مجھے مجھ سا نہیں لگا

میرے خلاف جس نے بھی کھینچا کمان کو
اپنا مجھے لگا وہ پرایا نہیں لگا

ساقی نے مفلسی کو دیا بے حسی کا جام
پھر اس کو تلخ کوئی بھی لہجہ نہیں لگا

آ میرے پاس موجِ نسیمی کریں حساب
اس دل پہ تیر دیکھیں تو کس کا نہیں لگا

نسیم شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم