MOJ E SUKHAN

دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہے

غزل

دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہے
کانٹوں کو گدگدا کے بہت سوچتے رہے

کل صبح ایک شاخ یہ دو ادھ کھلا گلاب
تھوڑا سا مسکرا کے بہت سوچتے رہے

کیا جانے چاندنی نے ستاروں سے کیا کہا
شب بھر وہ سر جھکا کے بہت سوچتے رہے

ٹوٹا کہیں جو شاخ سے غنچہ تو ہم وہیں
پہلو میں دل دبا کے بہت سوچتے رہے

کیا جانے کس لئے وہ نظر کے سوال پر
ہم سے نظر بچا کے بہت سوچتے رہے

اتنا تو یاد ہے کہ محبت کے ذکر پر
ہونٹوں کو وہ دبا کے بہت سوچتے رہے

ہاتھوں سے گر کے چور ہوا جام جب کنولؔ
ٹکڑے اٹھا اٹھا کے بہت سوچتے رہے

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم