Yah ajeeb meray Naseeb They
غزل
یہ عجیب میرے نصیب تھے
وہ جو دُور تھے تو قریب تھے
وہ ہی اب بھی ہیں مرے ہم نشیں
وہ ہی کل بھی میرے حبیب تھے
مری زندگی کے وہ ہم سفر
مری منزلوں سے قریب تھے
کوئی رنج و غم نہ ملال تھا
کہ وہ دن بھی کتنے عجیب تھے
تھا جنوں اُن ہی کا عطا کیا
وہ جنوں کے میرے طبیب تھے
میں تھی حق پرست کچھ اِس قدر
مرے ساتھ دار و صلیب تھے
جو درخشاںؔ چپ رہے عمر بھر
مرے عشق کے وہ نقیب تھے
درخشاں صدیقی
Darkhshaan siddiqui