غزل
کسی کے ساتھ دینے کا کوئی امکاں نہیں ہوتا
وسیع القلب ہونا اس قدر آساں نہیں ہوتا
بچھڑتے وقت اک آنسو پس مژگاں نہیں ہوتا
مگر یہ حوصلہ اس درد کا درماں نہیں ہوتا
جدائی کا تأثر مجھ پہ کچھ ہے آپ پر کچھ ہے
اثر ہر بات کا ہر شخص پر یکساں نہیں ہوتا
مرا دل اپنے ہی احساس کی شدت گنوا بیٹھا
تمہاری بات کا افسوس اب چنداں نہیں ہوتا
تضاد اپنی طبیعت کا مزاج اس کی محبت کا
ہر اندیشہ بہ وجہ گردش دوراں نہیں ہوتا
سمندر کی تہیں اور آسماں کی سب حدیں چھو لیں
مگر انساں کو اپنی ذات کا عرفاں نہیں ہوتا
نسیمؔ اپنے لئے تم نے دعا بھی ترک کر ڈالی
تو کیا اب خود سے ملنے کا تمہیں ارماں نہیں ہوتا
وضاحت نسیم