MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی کے ساتھ دینے کا کوئی امکاں نہیں ہوتا

غزل

کسی کے ساتھ دینے کا کوئی امکاں نہیں ہوتا
وسیع القلب ہونا اس قدر آساں نہیں ہوتا

بچھڑتے وقت اک آنسو پس مژگاں نہیں ہوتا
مگر یہ حوصلہ اس درد کا درماں نہیں ہوتا

جدائی کا تأثر مجھ پہ کچھ ہے آپ پر کچھ ہے
اثر ہر بات کا ہر شخص پر یکساں نہیں ہوتا

مرا دل اپنے ہی احساس کی شدت گنوا بیٹھا
تمہاری بات کا افسوس اب چنداں نہیں ہوتا

تضاد اپنی طبیعت کا مزاج اس کی محبت کا
ہر اندیشہ بہ وجہ گردش دوراں نہیں ہوتا

سمندر کی تہیں اور آسماں کی سب حدیں چھو لیں
مگر انساں کو اپنی ذات کا عرفاں نہیں ہوتا

نسیمؔ اپنے لئے تم نے دعا بھی ترک کر ڈالی
تو کیا اب خود سے ملنے کا تمہیں ارماں نہیں ہوتا

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم