MOJ E SUKHAN

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے
حصارِ رنگ سے نکلیں تو بات بنتی ہے

کسی کسی کو زمانہ فروغ دیتا ہے
کسی کسی کی زمانے کے سات بنتی ہے

نقوشِ ریگ سہی، تو بھی کچھ بنا کے تو دیکھ
کہ رفتہ رفتہ یونہی کائنات بنتی ہے

مرے نجوم پہ اب مستقل اندھیرا ہے
تری نگاہ میں کب چاند رات بنتی ہے

خلاء میں رام کئی بار غور سے دیکھا
کسی کی آنکھ ہی وجہِ ثبات بنتی ہے

رام ریاض

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم