MOJ E SUKHAN

روشنی کا کوئی امکان نہیں منظر میں

Rooshni Ka koi Imkaan nahi Manzar Main

غزل

روشنی کا کوئی امکان نہیں منظر میں
رنگ بھرنا بھی تو آسان نہیں منظر میں

غم کی یلغار ہے اک بخت کے مارے پہ مگر
کوئی پرسہ نہیں، پرسان نہیں منظر میں

میرے پاوں میں ہے زنجیرِ روایات پڑی
ہاں روایات، جو عنوان نہیں منظر میں

ایک ہارا ہوا لشکر ہے حویلی میں مگر
کوئی ملکہ، کوئی سلطان نہیں منظر میں

بس کچھ آپس میں الجھتے ہوئے قیدی ہیں وہاں
کوئی سینک نہیں، زندان نہیں منظر میں

حوصلہ شکنی ڈبوتی ہے مجھے اپنوں کی
ہارنے کا کوئی امکان نہیں منظر میں

دیکھنے میں تو ہے اک بھیڑ مرے گرد مگر
یہ الگ بات کہ انسان نہیں منظر میں

اک حویلی نے یہاں کھیت بڑے نگلے ہیں
رقصِ افلاس ہے دہقان نہیں منظر میں

بعد مدت کے میں گاؤں کو ہوں لوٹا پہ یہا‌ں
سبھی کچھ ہے ترا دالان نہیں منظر میں

زندگی ڈوب رہی ہے پسِ منظر حامیؔ
اور اس کا کوئی سامان نہیں منظر میں

حمزہ حامیؔ

Hamza Haami

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم