MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا جانے کہاں لے گئی تنہائی ہماری

غزل

 

کیا جانے کہاں لے گئی تنہائی ہماری
مدت ہوئی کچھ بھی نہ خبر آئی ہماری

اس دشت گم آثار میں آنے کے نہیں ہم
ہے اور کہیں بادیہ پیمائی ہماری

اس راہ سے ہم بچ کے نکل آئے وگرنہ
بیٹھی تھی کمیں گاہ میں رسوائی ہماری

رہ رہ کے جو تصویر چمکتی ہے فضا میں
ہم اس کے ہیں شیدائی وہ شیدائی ہماری

دل بیٹھنے لگتا ہے یہی سوچ کے اب بھی
پھر رات طبیعت نہیں گھبرائی ہماری

اب خاک ندامت سے اٹھیں بھی تو کہاں جائیں
ہونی ہی نہیں جب کہیں شنوائی ہماری

اک دل کے تقاضے کی ہی تکمیل ہے ورنہ
کیا عرض ہنر کیا سخن آرائی ہماری

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم