MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی نے دیکھا ہے کل کی ضرورتوں کو اَبھی

کسی نے دیکھا ہے کل کی ضرورتوں کو اَبھی
بچائے رَکھو پُرانی روایتوں کو اَبھی

جو لوگ کرتے ہیں بے داغ چاہتوں کی تلاش
ترسنے والے ہیں جھوٹی محبتوں کو اَبھی

پھر اِک کمند نے ماں سے چھڑا لیا اُس کو
سمجھ رہا تھا وہ صحرا کی وُسعتوں کو اَبھی

اَکھر رہا ہے بھری دوپہر کا سنّاٹا
شریر پاؤں میسّر نہیں چھتوں کو اَبھی

سنا یہ ہے وہ بہت خوش سمجھ رہا ہے ہمیں
تو اُس نے دُور سے دیکھا ہے شہرتوں کو اَبھی

زمانہ کل اُنھیں سچائیاں سمجھ لے گا
تم اِک مذاق سمجھتے ہو تہمتوں کو اَبھی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم