MOJ E SUKHAN

وصل کی شب رنگ گردوں نعمت دیگر ہو گیا

وصل کی شب رنگ گردوں نعمت دیگر ہو گیا
شام سے یار اور میں جامہ سے باہر ہو گیا

اس شہ خوباں کو جب لکھا عریضہ شوق کا
اس قدر لوٹا ہما اس پرقطرہ کبوتر ہو گیا

کو بہ کو پھرتا ہوں میں خانہ خرابوں کی طرح
جیسے سودے کا ترے سر میں میرے گھر ہو گیا

بوجھ ہے حمال کا قاصد سے اٹھنے کا نہیں
طول شرح شوق سے مکتوب دفتر ہو گیا

گوش عارف میں یہ گورستاں سے آتی ہے صدا
آسماں ہے وہ زمیں کے جو برابر ہو گیا

تیرے پہلو سے جدا ہوتے ہی اے آرام جاں
استخواں جو تھا میرے پہلو میں خنجر ہو گیا

سامنا جو پڑ گیا ہوش اڑ گئے بے خود ہوا
جام چشم یار بے ہوشی کا ساغر ہو گیا

ایک الف سے قد کے سودے میں ہوا آتشؔ فقیر
چار ابرو کو صفا کر کے قلندر ہو گیا

حیدر علی آتش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم