MOJ E SUKHAN

لاکھ چاہا رک نہ پایا خواہشوں کا سلسلہ

غزل

لاکھ چاہا رک نہ پایا خواہشوں کا سلسلہ
ناتواں دل نے اٹھایا آنسوؤں کا سلسلہ

کیسے خواہش میں کروں پرواز کی تو ہی بتا
دل میں گھٹ کر رہ گیا جب حسرتوں کا سلسلہ

گھر سے گھر کو یوں ملانا کام تو آساں نہ تھا
اپنے ہاتھوں سے بڑھایا نفرتوں کا سلسلہ

تجھ کو ڈھونڈا اس طرح جیسے خدا ہے تو مرا
راہ میں کس نے بنایا مقبروں کا سلسلہ

روح کی گہرائیوں میں تو اتر کر آ گیا
ذہن کی سیڑھی سے آیا قربتوں کا سلسلہ

تجھ کو پا لینا ہی میری منزل مقصود ہے
جا بجا کس نے بچھایا پتھروں کا سلسلہ

زندگی کے دشت میں آیا نہ جب عکس بہار
میں نے خود کو خود دکھایا وحشتوں کا سلسلہ

بہار النساء بہار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم