غزل
میں سوچ سوچ کے آنکھوں کو نم نہیں کروں گا
تری جدائی میں اب کوئی غم نہیں کروں گا
اٹھائے رکھوں گا سب ناز تیرے ہاتھوں پر
میں ایرے غیرے سے اس کو رقم کروں گا
بغور دیکھوں گا حالات اپنے پیچیدہ
ترے خیال کو آنکھوں میں ضم نہیں کروں گا
لکھوں گا وقت کے حالات پر میں طنزیہ شعر
سلگتی آگ میں تنہائی کم نہیں کروں گا
قصیدے لکھوں گا دن رات برسرِپیکار
تری جبیں کو کسی طور خم نہیں کروں گا
ندیم صبحِ منور حسین چہرے پر
سیاہ فام اداسی کو دم نہیں کروں گا
ندیم ملک