MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بھگت رہا ہوں میں بھگتان اس الاؤ کے ساتھ

غزل
بھگت رہا ہوں میں بھگتان اس الاؤ کے ساتھ
کہ لخت لخت ہوا ہوں میں اس جلاؤ کے ساتھ
پرانے زخم مجھے مل رہے ہیں یاروں سے
میں مطمئن ہوں لگے ایک ایک گھاؤ کے ساتھ
بہا رہی تھی مجھے موجِ زندگی جس دن
میں منتشر ہوا اس روز ہر دباؤ کے ساتھ
خیال و خواب کی سب کھڑکیوں کو کھول کے آج
وہ بھر رہا ہے مرے نقش کو خلاؤ کے ساتھ
تعلقات کی سیڑھی سے گر گئے تھے یہ لوگ
اکھٹا کرنا پڑے گا انھیں جھکاؤ کے ساتھ
وہ جن سے خاص مراسم تھا آج اس سے بھی
فریب ملنے لگا ہے مجھے لگاؤ کے ساتھ
ستارے رزق کی خاطر بھٹک رہے تھے ندیم
انھیں میں کھینچ ہی لایا ہوں اس بہاؤ کے ساتھ
ندیم ملک
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم