MOJ E SUKHAN

بس ایک خواب کی صورت کسی حسیں کی طرف

بس ایک خواب کی صورت کسی حسیں کی طرف
میں آسمان سے آیا تھا کل زمیں کی طرف

یہ بے یقینی کا دریا عبور کرتے ہوئے
مجھے تو لوٹ کے آنا پڑا یقیں کی طرف

بلا رہے تھے منافق بھی دوست بن کے مجھے
بڑھایا ہاتھ نہ میں نے منافقیں کی طرف

کہ اس پہ نام لکھا تھا کسی ستمگر کا
وہ مڑ کے دیکھتا کیسے مری جبیں کی طرف

عجیب لوگ ہیں خود اپنے حال میں خوش ہیں
یہاں پہ دیکھتا کوئی نہیں مکیں کی طرف

وہ آج اپنے کیے پہ بہت ہی نادم یے
اٹھا رہا تھا جو انگلی فلک نشیں کی طرف

حسب نسب سے تو اچھا دکھائی دیتا ہے
کیوں پیش رفت ہے اس کی رضا کمیں کی طرف

حسن رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم