MOJ E SUKHAN

میرے لیے کیا شور بھنور کا کیا موجوں کی روانی

میرے لیے کیا شور بھنور کا کیا موجوں کی روانی
میری پیاس کے ساحل تک ہے تیرا بہتا پانی

سارے امکانات میں روشن صرف یہی دو پہلو
ایک ترا آئینہ خانہ اک میری حیرانی

آج ہوں میں اپنے بستر پر کروٹ کروٹ بوجھل
میری نیند سے آ کر الجھی اک بے رنگ کہانی

ملنا جلنا رسم ہی ٹھہرا پھر کیا شکوہ شکایت
تازہ زخم کوئی دے جاؤ چھوڑو بات پرانی

میں ہوں اک دلچسپ تماشا دنیا ہے اک میلا
میرا چہرہ بن جاتی ہے ہر صورت انجانی

پنچھی کے دو پروں کے نیچے سمٹا سارا سمندر
اپنے ظرف کی گہرائی میں ڈوب گئی طغیانی

آج چلو آوارہ پھریں ہم شہر میں گلیوں گلیوں
رمزؔ ہو کچھ تم بھی من موجی ہم بھی ہیں سیلانی

محمد احمد رمز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم