MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دوسروں پر کیا کھلوں خود سے بھی پوشیدہ ہوں میں

دوسروں پر کیا کھلوں خود سے بھی پوشیدہ ہوں میں
قیمتی پتھر ہوں لیکن ناتراشیدہ ہوں میں

میں خود اپنا سائباں ہوں یہ مجھے معلوم ہے
اور یہ بھی جانتی ہوں میں کہ بوسیدہ ہوں میں

میرے اندر ہی بسی ہے میری ساری کائنات
اس بدن میں قید ہوں لیکن جہاندیدہ ہوں میں

لوگ مجھ کو جانتے ہیں سیدھی سادی دوستو
یہ مگر میں جانتی ہوں کتنی پیچیدہ ہوں میں

عین ممکن ہے کہ رفعت ہو نہ کچھ بھی منکشف
لیکن اپنی جستجو میں کتنی سنجیدہ ہوں میں

رفعت وحید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم