MOJ E SUKHAN

جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں

غزل

جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں
آج کل ہم ترے بارے میں بہت سوچتے ہیں

کون حالات کی سوچوں کے تموج میں نہیں
ہم بھی بہہ کر اسی دھارے میں بہت سوچتے ہیں

ہنر کوزہ گری نے انہیں بخشی ہے تراش
یا یہ سب نقش تھے گارے میں بہت سوچتے ہیں

دھیان دھرتی کا نکلتا ہی نہیں ہے دل سے
جب سے اترے ہیں ستارے میں بہت سوچتے ہیں

اب محبت میں بھی اقبالؔ ہماری اوقات
کیوں نہیں اپنے گزارے میں بہت سوچتے ہیں

 

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم