اناؤں کا جو بلیدان کرنے والا ہے
تمام شہر کو حیران کرنے والا ہے
عجیب سی ہےہنسی آج اُسکےہونٹوں پر
نہ جانے کیا مرا مہمان کرنے والا ہے
خدا نے جس کو اُتارا کلامِ حق کہہ کر
وہ جانور کو بھی انسان کرنے والا ہے
دلِ تباہ تری آہ نیم کش کا فسوں
کسی حسیں کو پشیمان کرنے والا ہے
سنا ہے ایک سیانے کو ہو گیا ہے عشق
وہ اپنا چاک گریبان کرنے والا ہے
زمانہ جس کی اداؤں کا تھا اسیر امین
متاعِ جاں وہ تجھے دان کرنے والا ہے
امین اڈیرائی