MOJ E SUKHAN

اناؤں کا جو بلیدان کرنے والا ہے

اناؤں کا جو بلیدان کرنے والا ہے
تمام شہر کو حیران کرنے والا ہے

عجیب سی ہےہنسی آج اُسکےہونٹوں پر
نہ جانے کیا مرا مہمان کرنے والا ہے

خدا نے جس کو اُتارا کلامِ حق کہہ کر
وہ جانور کو بھی انسان کرنے والا ہے

دلِ تباہ تری آہ نیم کش کا فسوں
کسی حسیں کو پشیمان کرنے والا ہے

سنا ہے ایک سیانے کو ہو گیا ہے عشق
وہ اپنا چاک گریبان کرنے والا ہے

زمانہ جس کی اداؤں کا تھا اسیر امین
متاعِ جاں وہ تجھے دان کرنے والا ہے

امین اڈیرائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم