نہ خود کو یونہی نڈھال کرتے سوال کرتے
جو رابطے تھے بحال کرتے سوال کرتے
خموش رہنا ہے بزدلوں میں شمار ہونا
یہ سوچ کر کچھ کمال کرتے سوال کرتے
یہ خود کلامی کا ہی نتیجہ ملا ہے تم کو
کہ عمر گزری ملال کرتے سوال کرتے
جو منصب دلبری ہے اس کا تقاضا یہ تھا
نہ خود کو نذر وصال کرتے سوال کرتے
تمام ارض و سما بھی خود ہم رکاب ہوتے
کچھ اس طرح سے دھمال کرتے سوال کرتے
تمام نظریں تمہیں پہ آ کر ٹکی ہوئی تھیں
اگر تم اس کا خیال کرتے سوال کرتے
جہاں زبانوں پہ قفل ڈالے گئے وہاں پر
قمر یہ کار محال کرتے سوال کرتے
اقبال قمر