MOJ E SUKHAN

نہ خود کو یونہی نڈھال کرتے سوال کرتے

نہ خود کو یونہی نڈھال کرتے سوال کرتے
جو رابطے تھے بحال کرتے سوال کرتے

خموش رہنا ہے بزدلوں میں شمار ہونا
یہ سوچ کر کچھ کمال کرتے سوال کرتے

یہ خود کلامی کا ہی نتیجہ ملا ہے تم کو
کہ عمر گزری ملال کرتے سوال کرتے

جو منصب دلبری ہے اس کا تقاضا یہ تھا
نہ خود کو نذر وصال کرتے سوال کرتے

تمام ارض و سما بھی خود ہم رکاب ہوتے
کچھ اس طرح سے دھمال کرتے سوال کرتے

تمام نظریں تمہیں پہ آ کر ٹکی ہوئی تھیں
اگر تم اس کا خیال کرتے سوال کرتے

جہاں زبانوں پہ قفل ڈالے گئے وہاں پر
قمر یہ کار محال کرتے سوال کرتے

اقبال قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم