MOJ E SUKHAN

مقام ہوش سے گزرا مکاں سے لا مکاں پہنچا

مقام ہوش سے گزرا مکاں سے لا مکاں پہنچا
تمہارے عشق میں دیوانۂ منزل کہاں پہنچا

نظر کی منزلوں میں بس تمہیں حسن مجسم تھے
متاع آرزو لے کر میں الفت میں جہاں پہنچا

اسی نے عشق بن کر دو جہاں کو پھونک ڈالا ہے
وہ شعلہ جو تری نظروں سے دل کے درمیاں پہنچا

جنوں ظاہر ہوا رخ پر خودی پر بے خودی چھائی
بہ قید ہوش میں جب بھی قریب آستاں پہنچا

تم اپنی جستجو میں یہ مرا شوق طلب دیکھو
تمہارے عشق میں لٹ کر بھی تم تک جان جاں پہنچا

تعلق توڑ کر جان جہاں سارے زمانے سے
میں پہنچا تھا جہاں مجھ کو تری خاطر وہاں پہنچا

فناؔ وہ جلوہ گر ہونے لگے ہر بزم ایماں میں
مرا دل لے کے جب مجھ کو سر کوئے بتاں پہنچا

فنا بلند شہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم