MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تیز چلتی ہے یہ آرام کہاں دیکھتی ہے

غزل

تیز چلتی ہے یہ آرام کہاں دیکھتی ہے
زندگی عشق میں انجام کہاں دیکھتی ہے

خود کو گروی بھی رکھا خواب بھی سستے بیچے
خواہشِ وصل بھلا دام کہاں دیکھتی ہے

دنیا کہتی ہے مری آنکھ نے دنیا دیکھی
اس نے دیکھے ہیں جو آلام کہاں دیکھتی ہے

اب بھی موقع ہے بڑا نام بڑا رہنے دے
تیغ چلتی ہے تو پھر نام کہاں دیکھتی ہے

فکرِ تعمیر میں تخریب کو شامل نہ کرو
نقص تو ڈھونڈتی ہے کام کہاں دیکھتی ہے

اسد رضا سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم