MOJ E SUKHAN

ویسے تو تھے یار بہت پر کسی نے مجھے پہچانا تھا

ویسے تو تھے یار بہت پر کسی نے مجھے پہچانا تھا
تم نے بس اک سمجھا مجھ کو تم نے بس اک جانا تھا

تم بن سجنی جیون اپنا سونا آنگن ٹوٹا سپنا
دل کو تم سے راہ تھی اتنی ہم نے کب یہ جانا تھا

میں تو پاپی میری خاطر اپنا سب کچھ دان کیا کیوں
دنیا جیسی پیاری بستی ایسے چھوڑ کے جانا تھا

موت اور دل پر کسی کو قابو آئے تو اپنی مرضی آئے
میری خاطر جان گنوانا یارو ایک بہانا تھا

میں نے یارو تم سے سنا تھا وقت کا مرہم بھر دے ہر غم
اگلی پچھلی ساری باتیں مجھ کو بھول ہی جانا تھا

بھور کا بچھڑا سانجھ کو لوٹا اپنے کئے پر پہروں رویا
دل کی بینا ٹوٹ گئی تھی پھر بھی تم کو گانا تھا

یوسف تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم