MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یوں تری تلاش میں تیرے خستہ جاں چلے

یوں تری تلاش میں تیرے خستہ جاں چلے
جیسے جھوم جھوم کر گرد کارواں چلے

آج یوں ہی ساقیا جام ارغواں چلے
جیسے بزم وعظ میں شیخ کی زباں چلے

راہ غم میں ہم سے وہ یوں کشاں کشاں چلے
جیسے بچ کے عشق سے حسن بدگماں چلے

دل دھڑک دھڑک اٹھا یوں کسی کو دیکھ کر
جس طرح بہار میں نبض گلستاں چلے

دل کی انجمن سے یوں جا رہا ہے ضبط غم
جیسے راز کھولنے کوئی راز داں چلے

شیخ جا رہا ہے یوں سوئے مے کدہ فناؔ
سر جھکا کے جس طرح عمر رائگاں چلے

فنا نظامی کانپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم