MOJ E SUKHAN

پھول کھلتے ہی اگر پاؤں میں چھالے ہوں گے

پھول کھلتے ہی اگر پاؤں میں چھالے ہوں گے
اے جنوں دشت نوردی کے بھی لالے ہوں گے

ان پہ ہو جائیں گے تعمیر حقیقت کے محل
ہم نے جو خواب کبھی ذہن میں پالے ہوں گے

بندگی میری ترے در کی جبیں سائی ہے
میرے سجدے ترے قدموں کے حوالے ہوں گے

مسکراتا ہے ہر اک زخم دل بسمل کا
ہنس کے قاتل نے بھی ارمان نکالے ہوں گے

اے بہاران چمن وقت کا احساس رہے
کھل گئے پھول تو کانٹوں کے حوالے ہوں گے

انقلاب آ ہی گیا صحن چمن میں جنبشؔ
اب بہاروں کے بھی انداز نرالے ہوں گے

جنبش خیر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم